فوسل کیسے بنتا ہے؟
فوسل قدیم زندگی کی محفوظ باقیات یا نشان ہیں: ہڈیاں، دانت، خول، قدموں کے نشان اور پتوں کے نقش۔ ڈائنوسار کی ہڈی عموماً یوں فوسل بنتی ہے کہ وہ جلد ہی ریت یا گاد میں دب جائے، پھر پانی میں گھلی معدنیات اس کے باریک سوراخ بھر دیں یا اصل مادّے کی جگہ لے لیں۔ کبھی ہڈی خود نہیں بچتی، صرف چٹان میں اس کا نقش یا سانچہ رہ جاتا ہے۔ ہر فوسل ایک ہی طرح نہیں بنتا، اور زیادہ تر باقیات تو کبھی فوسل بن ہی نہیں پاتیں۔
جلد دب جانا کیوں کام آتا ہے؟
جانور کے مرنے کے بعد اس کے نرم حصے عموماً جلد گل سڑ جاتے ہیں یا دوسرے جانور انہیں کھا جاتے ہیں۔ ہڈیاں، دانت اور خول کچھ زیادہ دیر ٹکے رہتے ہیں۔
اگر باقیات جلدی ریت، گاد یا راکھ کے نیچے دب جائیں تو بکھرنے سے بچ سکتی ہیں۔ اس سے فوسل بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے، مگر ہر دبی ہوئی ہڈی فوسل نہیں بنتی۔
پانی ہڈی میں پتھر بھر دیتا ہے
وقت کے ساتھ مٹی کی تہیں دب دب کر سخت ہوتی ہیں اور چٹان بن جاتی ہیں۔ اسی دوران پانی میں گھلی معدنیات ہڈی کے باریک سوراخوں میں جمتی رہتی ہیں، اور یوں ہڈی کی بناوٹ محفوظ رہ سکتی ہے۔
کبھی معدنیات اصل مادّے کی جگہ ہی لے لیتی ہیں۔ کبھی ہڈی یا خول گھل کر غائب ہو جاتا ہے اور چٹان میں اس کا سانچہ رہ جاتا ہے، جو بعد میں کسی اور مادّے سے بھر سکتا ہے۔ صرف وزن دیکھ کر یا کھٹکھٹا کر یہ طے نہیں ہوتا کہ کوئی چیز فوسل ہے یا نہیں۔
صرف ہڈیاں ہی نہیں
قدموں کے نشان بھی فوسل بنتے ہیں! ڈائنوسار نرم کیچڑ پر سے گزرا، کیچڑ سوکھ گئی، اوپر ریت جم گئی، اور یوں وہ نقشِ قدم ہمیشہ کے لیے پتھر میں محفوظ ہو گیا۔ گوبر بھی فوسل بن جاتا ہے، اور انڈے بھی بچ رہتے ہیں۔
مائیاسورا کو لیجیے۔ یہ 9 میٹر لمبا اور تقریباً 3 ٹن وزنی ڈائنوسار کریٹیشس دور میں، 80 سے 75 ملین سال پہلے رہتا تھا۔ سائنس دانوں کو اس کے فوسلز گھونسلوں اور ننھے بچوں سمیت ملے ہیں۔ یہ سب بھی فوسل ہیں: صرف ران کی ہڈی نہیں، پورا گھونسلا اور پورا خاندان!
آدھے میٹر کا آرکیوپٹریکس بھی چونے کے باریک پتھر میں دبا ہوا ملا۔ وہ پتلی پتھریلی سل نہ ہوتی تو اس کے نازک پروں کے نشان کبھی نہ بچتے۔
فوسلز اتنے کم کیوں ملتے ہیں؟
فوسل بننے کے لیے کئی باتوں کا ایک ساتھ ہونا ضروری ہے: باقیات جلدی دب جائیں، پانی میں صحیح معدنیات ہوں، مٹی کی تہیں بہہ نہ جائیں، پھر زمین کی ہلچل سے یہ تہیں اوپر آئیں، اور آخر میں کوئی انہیں ڈھونڈ بھی لے۔ تقریباً سارے ڈائنوسار کوئی پتھریلا نشان چھوڑے بغیر مٹ گئے۔
اسی لیے کوئی شاندار ہڈی ملے تو سائنس دان خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں! رہا عنبر یعنی درخت کی جمی ہوئی رال میں پھنسا مچھر، تو وہ الگ معاملہ ہے: عنبر کیڑے کو بالکل دوسرے طریقے سے محفوظ کرتا ہے، اور اس سے کوئی جوراسک پارک نہیں بن سکتا۔
فوسل کہاں ملتے ہیں؟
فوسل تہہ دار چٹانوں میں ملتے ہیں، جیسے ریتلا پتھر، چونے کا پتھر اور شیل، یعنی مٹی سے بنی تہہ دار چٹان۔ سخت گرینائٹ میں وہ کبھی نہیں ملتے۔ پہاڑوں کی سیر میں کسی چمکدار چٹان کے مقابلے میں دریا کا وہ کنارہ فوسل ڈھونڈنے کے لیے بہتر ہے جہاں مٹی کی تہیں صاف دکھائی دیں۔ کچھ ملے تو کسی بڑے کو دکھائیں۔
ہماری سائٹ پر مائیاسورا اور آرکیوپٹریکس کے کارڈ کھول کر دیکھیں۔ ایک کے گھونسلے بچے رہ گئے، دوسرے کے پر پتھر میں قید ہو گئے۔
بچے اکثر یہ پوچھتے ہیں
- ڈائنوسار کی ہڈی فوسل کیسے بنتی ہے؟
- ہڈی گاد یا ریت میں دب کر محفوظ ہو سکتی ہے۔ پھر معدنیات اس کے باریک سوراخ بھر دیتی ہیں، اور کبھی چٹان میں صرف اس کا نقش یا سانچہ رہ جاتا ہے۔
- کیا ہر پرانی ہڈی فوسل ہوتی ہے؟
- نہیں۔ فوسل قدیم زندگی کی وہ باقیات یا نشان ہیں جو بہت پرانے زمانے سے محفوظ چلے آ رہے ہوں۔ ہاں، ان کا پوری طرح پتھر بن جانا ضروری نہیں۔
- فوسل اتنے کم کیوں ملتے ہیں؟
- کیونکہ فوسل بننے کے لیے جلدی دب جانا اور خاص قدرتی حالات ضروری ہیں۔ ورنہ زیادہ تر مردہ جسم گل سڑ کر مٹ جاتے ہیں۔
- کیا قدموں کے نشان بھی فوسل ہیں؟
- جی ہاں! قدیم زندگی کا ہر محفوظ نشان فوسل ہے: قدموں کے نشان، انڈے، گھونسلے، یہاں تک کہ پتھر بن جانے والا گوبر بھی۔
- کیا میں خود فوسل ڈھونڈ سکتا ہوں؟
- کبھی کبھی تہہ دار چٹانوں یا ندی کے کناروں پر فوسل مل جاتے ہیں۔ کچھ ملے تو خود نہ توڑیں، کسی بڑے کو دکھائیں۔
- کیا عنبر میں پھنسا مچھر ڈائنوسار کا فوسل ہے؟
- نہیں۔ عنبر درخت کی جمی ہوئی رال ہے جو کیڑے کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ ہڈی کا فوسل نہیں، اور اس سے ڈائنوسار نہیں بنایا جا سکتا۔
یاد رکھیے
- کوئی ممکنہ فوسل ملے تو اسے توڑیں یا ٹھونکیں نہیں، اس کی تصویر کھینچیں اور کسی ماہر کو دکھائیں۔
- فوسل بننے کا خاکہ بنائیں تو ہڈی کے اوپر ریت اور مٹی کی کئی تہیں دکھائیں، صرف مٹی میں پڑی ہڈی نہیں۔
- دو کارڈ دیکھیں: مائیاسورا (فوسل گھونسلے) اور آرکیوپٹریکس (پتھر میں پروں کے نشان)۔ صاف پتا چل جائے گا کہ فوسل صرف ہڈیوں کے نہیں ہوتے!