اردو — DinoLand
ڈائنو لینڈ 3 سے 12 سال کے بچوں کے لیے ڈائنوساروں کا مفت انٹرایکٹو انسائیکلوپیڈیا ہے۔ یہاں 17 قدیم جانوروں کی تصویریں ہیں، اور ہر ایک کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ کتنا بڑا اور بھاری تھا اور کیسے رہتا تھا۔ کوئز کھیلیے، قد کاٹھ ناپ کر دیکھیے، اور ہاں، ہر جانور کی دہاڑ بھی سن لیجیے!
🌍 ڈائنوساروں سے ملیے!
- ٹائرینوسارس — 12 م, 8 ٹن, گوشت خور: ڈائنوساروں کا بادشاہ! خشکی کے کسی بھی جانور سے زیادہ طاقتور جبڑے اسی کے تھے۔
- بریکیوسارس — 22 م, 40 ٹن, سبزی خور: لمبی گردن والا دیوقامت ڈائنوسار۔ اونچے سے اونچے درخت کی چوٹی تک آرام سے پہنچ جاتا تھا!
- ٹرائیسیراٹاپس — 9 م, 6 ٹن, سبزی خور: تین سینگ اور گردن کے گرد ہڈی کی بڑی سی ڈھال — پورا بکتر بند سورما!
- سٹیگوسارس — 9 م, 5 ٹن, سبزی خور: اس ڈائنوسار کی پیٹھ پر بڑی بڑی تکونی تختیاں تھیں اور دم پر نوکیلے کانٹے۔
- ویلوسیریپٹر — 2 م, 15 کلوگرام, گوشت خور: چھوٹا سا، مگر بہت ہوشیار اور پھرتیلا شکاری۔ اور ہاں، اس کے پر بھی تھے!
- سپائنوسارس — 14 م, 7.4 ٹن, گوشت خور: سب سے لمبے گوشت خور ڈائنوساروں میں سے ایک! پیٹھ پر اونچا بادبان تھا اور یہ دریاؤں میں مچھلیاں پکڑتا تھا۔
- اینکیلوسارس — 8 م, 6 ٹن, سبزی خور: چلتا پھرتا ٹینک! سر سے دم تک ہڈی کا بکتر، اور دم کے سرے پر بھاری گرز۔
- ٹیرانوڈون — پروں کا پھیلاؤ 7 م, 25 کلوگرام, گوشت خور: بڑے بڑے پروں والا اڑنے والا رینگنے والا جانور۔ ڈائنوسار نہیں، مگر ان کا قریبی رشتہ دار!
- ڈپلوڈوکس — 27 م, 15 ٹن, سبزی خور: سب سے لمبے ڈائنوساروں میں سے ایک، اور دم کسی کوڑے کی طرح لمبی اور پتلی!
- پیراسارولوفس — 9.5 م, 5 ٹن, سبزی خور: موسیقار ڈائنوسار! اس کی لمبی کلغی ٹرمپٹ کا کام دیتی تھی۔
- پلیسوسارس — 3.5 م, 200 کلوگرام, گوشت خور: لمبی گردن والا سمندری رینگنے والا جانور۔ ڈائنوسار نہیں تھا، مگر انہی کے زمانے میں رہتا تھا!
- ایلوسارس — 10 م, 2.5 ٹن, گوشت خور: جوراسک دور کے آخر کا ایک بڑا شکاری — پھرتیلا اور خطرناک۔
- کارنوٹورس — 8 م, 1.5 ٹن, گوشت خور: سر پر دو سینگوں والا «بیل ڈائنوسار»! بڑے شکاریوں میں سب سے تیز دوڑنے والوں میں سے ایک۔
- اگوآنوڈون — 10 م, 3 ٹن, سبزی خور: سب سے پہلے دریافت ہونے والے ڈائنوساروں میں سے ایک۔ انگوٹھوں پر نوکیلے کانٹے!
- جیگانوٹوسارس — 13 م, 8 ٹن, گوشت خور: جنوبی امریکہ کا دیوقامت شکاری — سب سے بڑے گوشت خور ڈائنوساروں میں سے ایک!
- مائیاسورا — 9 م, 3 ٹن, سبزی خور: نام کا مطلب ہے «اچھی ماں چھپکلی»! ماہرینِ رکازیات کو اس کے گھونسلے بھی ملے ہیں اور بچوں کی باقیات بھی۔
- آرکیوپٹریکس — 0.5 م, 1 کلوگرام, گوشت خور: ایک مشہور قدیم پرندہ! اس کے پر بھی تھے اور پنکھ بھی، مگر ساتھ ہی دانت اور ہڈیوں والی لمبی دم بھی۔
❓ ڈائنوساروں کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوال
- ڈائنوسار کیا ہوتے ہیں؟
- ڈائنوسار رینگنے والے جانوروں کا ایک گروہ ہے جو کروڑوں سال پہلے نمودار ہوا۔ ان میں سے کچھ خشکی کے سب سے بڑے جانور بنے۔ پرندے اسی گروہ کی وہ شاخ ہیں جو آج بھی زندہ ہے۔ «ڈائنوسار» کا مطلب ہے «خوفناک چھپکلی»۔
- ڈائنوسار کب زندہ تھے؟
- پہلے ڈائنوسار 230 ملین سال سے بھی زیادہ پہلے نمودار ہوئے اور کوئی 165 ملین سال زمین پر رہے، یعنی تقریباً 66 ملین سال پہلے تک۔ اس زمانے کو میسوزوک دور کہتے ہیں، جس کے تین حصے ہیں: ٹرائیسک، جوراسک اور کریٹیشس۔
- ڈائنوسار کیوں ختم ہو گئے؟
- زیادہ تر سائنس دان مانتے ہیں کہ 66 ملین سال پہلے ایک بہت بڑا شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرایا۔ گرد و غبار نے سورج کی روشنی روک لی، موسم ٹھنڈا پڑ گیا، پودے مرنے لگے اور ڈائنوسار زندہ نہ رہ سکے۔ مگر ان کی اولاد، یعنی پرندے، آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
- سب سے بڑا ڈائنوسار کون سا تھا؟
- ڈپلوڈوکس سب سے لمبے ڈائنوساروں میں سے تھا: تقریباً 27 میٹر، یعنی تین اسکول بسوں جتنا۔ ارجنٹینوسارس سب سے بھاری ڈائنوساروں میں گنا جاتا ہے۔ اور بریکیوسارس بہت اونچا تھا، 4 منزلہ عمارت جتنا۔
- سب سے خطرناک ڈائنوسار کون سا تھا؟
- ہر شکاری کی اپنی طاقت تھی۔ سپائنوسارس سب سے لمبا گوشت خور ڈائنوسار تھا، تقریباً 14 میٹر۔ ٹی ریکس کے جبڑے بے حد طاقتور تھے۔ ویلوسیریپٹر چھوٹا مگر پھرتیلا تھا، البتہ سائنس دان ابھی نہیں جانتے کہ وہ جھنڈ بنا کر شکار کرتا تھا یا نہیں۔
- کون سے ڈائنوسار اڑ سکتے تھے؟
- پرندے ہی اڑنے والے ڈائنوسار ہیں، اگرچہ ہر پرندہ اڑ نہیں سکتا۔ ٹیرانوڈون اور کیٹزلکواٹلس بھی اڑتے تھے، مگر وہ پٹیروسار تھے — اڑنے والے رینگنے والے جانوروں کا ایک الگ گروہ۔
- ڈائنوسار کیا کھاتے تھے؟
- کچھ ڈائنوسار سبزی خور تھے اور پتے، ٹہنیاں اور فرن کھاتے تھے، جیسے ڈپلوڈوکس اور ٹرائیسیراٹاپس۔ کچھ گوشت خور تھے اور شکار کرتے تھے، جیسے ٹی ریکس، ویلوسیریپٹر اور سپائنوسارس۔ اور کچھ ہمہ خور بھی تھے۔
- کیا پرندے ڈائنوساروں کی اولاد ہیں؟
- جی ہاں! آج کے پرندے پروں والے چھوٹے ڈائنوساروں کی سیدھی اولاد ہیں۔ اسی لیے سائنس دان مرغی اور چڑیا کو بھی زندہ ڈائنوسار کہتے ہیں۔
- ٹائرینوسارس کا وزن کتنا تھا؟
- ٹی ریکس کا وزن تقریباً 8 ٹن تھا، ایک چھوٹے ٹرک جتنا۔ لمبائی 12 میٹر اور دانت کیلے جتنے لمبے۔ اتنا بھاری جانور دوڑ نہیں سکتا تھا، مگر تیز قدموں سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک چل لیتا تھا۔
- سائنس دان ڈائنوساروں کے بارے میں کیسے جانتے ہیں؟
- یہ کام ماہرینِ رکازیات کا ہے۔ وہ چٹانوں میں ہڈیاں، دانت، انڈے اور قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہیں۔ انہی سراغوں سے پتا چلتا ہے کہ ڈائنوسار کیسے دکھتے تھے اور کیسے رہتے تھے۔